آج کا سوال۔؟

سعودی عرب میں حرمین الشریفین میں 20 رکعات تراویح نماز پڑھائیں جاتیں ھیں اور باقی سعودی عرب کی مساجد میں 8 رکعات تراویح نماز پڑھائیں جاتی ہیں۔؟

الجواب

جب سعودی عرب کے بانی الملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ االلہ نے پورے سعودی عرب کا کنٹرول سنبھالا تو حرمین الشریفین میں نماز کیلیے چار مصلے بچھائے جاتے تھے اور ہر امام کے مقلدین اپنے امام کے فرمان کے مطابق نماز پڑھاتے تھے۔
جب شاہ عبدالعزیز رحمہ االلہ کو اس امر کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس امر کا حکم دیا کہ آج کے بعد حرمین الشریفین میں صرف ایک امام نماز پڑھائے گا اور وہ امام بھی ھمارا ھو گا اور دوسرے مسلک کا کوئی امام نماز نہیں پڑھا سکتا سب لوگوں نے اس امر پر اتفاق کر لیا

اب بات آئی ترویح رمضان المبارک کی تو سب سعودی عرب 8 رکعات تراویح کے قائل تھے لیکن احناف نے کہا ھم تو بیس رکعات تراویح نماز پڑھتے ہیں اس لیے 8 رکعات تراویح ھم آپ کے امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھینگے اور باقی ھم اپنا امام کھڑا کرکے اپنی نماز تراویح مکمل کیا کرینگے۔

تو اس اختلاف کو مشورہ کرنے کے بعد یوں ختم کیا گیا کہ ھمارے دو امام ھی 20 رکعات نماز پڑھائیں گے جس کو 8 پڑھنی ہے وہ آٹھ پڑھے اور جس کو بیس پڑھنی ھے وہ بیس پڑھے۔
اس دن کی بعد یہ اختلافی مسئلہ ختم ھوا اور اس دن سے لے کر آج تک پہلا امام آتا ھے وہ 10 رکعات تراویح پڑھاتا ھے اور وہ چلا جاتا ھے۔ اس کے بعد دوسرا امام آکے دوسری دس نماز تراویح پڑھاتا ھے

اس طرح جو 8 رکعات تراویح کے قائل ہیں وہ امام صاحب کے پیچھے 8 رکعات تراویح اور دو نفل المشفع پڑھ لیتے ہیں اور اس طرح وہ ایک وتر پڑھ کر اپنی گیارہ رکعات نماز مکمل کرتے ھیں اور مقلدین حنفی حضرت بیس رکعات تراویح اور دو نفل المشفع اور ایک رکعت وتر پڑھ کر اپنی تراویح کی نماز مکمل کرتے ہیں۔
اس کے بعد یہ مسئلہ اللہ کے فضل و کرم سے ایک متنازعہ مسئلہ آج تک امت مسلمہ میں ختم ھو گیا۔

ویسے بھی تراویح کی نماز ایک نفلی نماز ھے اسے اگر زیادہ بھی پڑھا جائے تو ان شاء اللہ ضرور ثواب ھو گا اب بیس رکعات کو سنت نہ سمجھا جائے سنت وھی ھو گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے۔

اب ایک دوسری بات بھی ھے کہ سعودی عرب کے حرمین الشریفین کے علاوہ باقی تمام سعودی عرب کی مساجد میں 8 رکعات تراویح پڑھائی جاتی ہیں۔

اور پورے سعودی عرب میں ہر نماز میں رفع الیدین بھی کرتے ھیں اور سینے پر ھاتھ بھی باندھتے ھیں اور مقتدی امام کے پیچھے ہر رکعات میں سورہ فاتحہ بھی پڑھتے ہیں اور آمین بلجہر بھی کہتے ہیں اور نماز کے بعد اذکار بھی پڑھتے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دعا بھی مانگتے ہیں اور خشوع اور خضوع کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت بھی کرتے ہیں اور سکون کے ساتھ نماز بھی پڑھتے ہیں اور نماز کی نیت زبان سے نہیں پڑھتے بلکہ دل کے خیال سے کرتے ھیں اور نماز کے آخر میں اجتماعی دعا بلکل نہیں مانگتے بلکہ ذکر و اذکار کرتے ہیں اور نماز میں جلد بازی بلکل نہیں کرتے اور نہ مقلدین حضرات کی طرح مقتدی خاموش ھو کر کھڑے رھتے ھیں۔

یہ چند حقائق ھیں جن کی توضیح کرنا بہت ضروری تھی اگر کسی بھائی کو میری ان باتوں پر اعتماد نہ آئے تو وہ اپنے سعودی عرب میں رھنے والے عزیز و اقارب سے یہ سب معاملات کر سکتے ہیں۔

یہ چند معلومات میں نے اختصار کے ساتھ لکھی ھیں۔
اللہ تعالٰی ھم سب کو صحیح قران و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

واللہ اعلم۔۔

Leave a Reply